گجرات میں نوجوان کا قتل: ’سعودی عرب سے آ کر‘ جنازے میں شریک بھائی ہی ملزم کیسے نکلا؟
یہ 17 اکتوبر کی دوپہر ڈیڑھ بجے کا وقت ہوگا جب گجرات کے گاؤں روپیری میں نوجوان محمد سفیان کو سعودی عرب میں رہنے والے اپنے بھائی محمد بلال کی واٹس ایپ پر کال موصول ہوئی۔
اس کال میں محمد بلال کہتے ہیں کہ ’تم فوری طور پر گجرات شہر پہنچو، وہاں تمھارے لیے ایک سرپرائز ہے۔ میں نے تمھیں کسی خاص شخص سے ملوانا ہے۔‘
محمد سفیان موٹرسائیکل پر گھر سے نکلے۔ جب وہ گجرات شہر کی مقررہ جگہ پر پہنچے تو کچھ دیر بعد انھیں معلوم ہوا کہ سرپرائز دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا بھائی تھا۔
دونوں نے اکٹھے کھانا کھایا، گپ شپ لگائی اور شام کے وقت گھر واپسی کے لیے موٹرسائیکل پر روانہ ہوگئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات فیصل شہزاد کے مطابق دریکڑی روڈ پر ایک ویران جگہ پہنچ کر محمد بلال نے مبینہ طور پر رفع حاجت کا بہانہ بنا کر بھائی سے موٹرسائیکل روکنے کو کہا۔
موٹرسائیکل رکتے ہی انھوں نے مبینہ طور پر اپنے بھائی کی گردن پر ’چھری سے وار کر کے اسے قتل کر دیا اور لاش سڑک کنارے پھینک دی۔‘
پولیس کے مطابق ملزم نے واردات کو ’ڈکیتی کا رنگ دینے کے لیے مقتول کا موبائل فون اور موٹرسائیکل بھی ساتھ لے لی۔ بعد ازاں موٹرسائیکل کوٹلہ میں پنجاب موٹرز کے باہر کھڑی کر کے لاہور فرار ہوگیا۔‘
پولیس کے مطابق اہل خانہ محمد بلال کی سعودی عرب سے پاکستان واپسی سے لاعلم تھے۔ جب رات کو خاندان نے بھائی کے قتل کی اطلاع دی تو ملزم نے ’بے خبر ہونے کا ڈرامہ رچایا۔‘