rabwah

بارسلونا میں اسپین کے اتحاد کی خاطر مظاہرے

ہسپانوی علاقے کاتالونیا کے دارالحکومت بارسلونا میں لاکھوں افراد نے ملک کو متحد رکھنے کے لیے ایک ریلی میں شرکت کی ہے۔ اس موقع پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ علیحدگی پسند رہنما کارلیس پوج ڈیمونٹ کو جیل میں ڈال دیا جائے۔

س ویب سائٹ پر ’انسانوں کے اسمگلروں کے سات بڑے جھوٹ‘ کے نام سے بھی ایک مضمون موجود ہے جس میں انسانوں کے اسمگلروں کی جانب سے پھیلائی گئی افواہوں کے جوابات دیے گئے۔ چند ایک معلومات درج ذیل ہیں:
– ’جرمن کمپنیوں کو افرادی قوت درکار ہے اسی لیے وہ ہر روز پانچ ہزار تارکین وطن کو ملازمتیں دے رہے ہیں‘۔
یہ بھی غلط ہے، جرمن کمپنیوں میں بھی ایسا کوئی کوٹہ نہیں ہے۔ اگرچہ جرمنی میں افرادی قوت درکار ہے لیکن غیر قانونی طور پر جرمنی آنے والوں کو ملازمت نہیں ملتی اور نہ ہی جرمن حکومت مہاجرین کو روزگار فراہم کرتی ہے۔
– ’جرمنی ہر مہاجر کو گھر مہیا کرتا ہے‘۔
پناہ کے متلاشی افراد کو رہائش تو دی جاتی ہے لیکن اپنا گھر کسی کو نہیں دیا جاتا اور موجودہ حالات میں جرمنی میں رہائش کے لیے گھر ڈھونڈنا کافی دشوار ہو چکا ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جرمنی میں تارکین وطن اپنی مرضی سے کسی بھی شہر میں رہائش اختیار نہیں کر سکتے۔
– ’جرمنی میں آٹھ لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دینے کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے‘۔
یہ بالکل غلط ہے، جرمنی می

جرمنی میں سیاسی پناہ، سچ کیا اور جھوٹ کیا؟

جرمن حکومت نے ’جرمنی کے بارے میں افواہیں‘ نامی ایک خصوصی ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے۔ اس ویب سائٹ پر جرمنی میں سیاسی پناہ کے حصول سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کے جوابات اور پناہ کے قوانین سے متعلق حقائق شائع کیے جا رہے ہیں۔
پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی اپیلیں، پاکستانی سر فہرست
جرمنی میں کسے پناہ ملے گی اور کسے جانا ہو گا؟
جرمن حکومت کے مطابق انسانوں کے اسمگلر جرمنی میں سیاسی پناہ کے حصول کے بارے میں جھوٹ پر مبنی افواہیں پھیلا کر لوگوں کو اس یورپی ملک میں اچھے مستقبل کا جھانسہ دیتے ہیں۔ ایسی ہی غلط معلومات کو بے نقاب کرنے اور لوگوں تک حقائق پہنچانے کے لیے یہ خصوصی ویب سائٹ شروع کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر انگریزی، جرمن اور عربی زبان میں معلومات مہیا کی گئی ہیں۔
جرمنی کی وفاقی وزارت خارجہ نے پیر تئیس اکتوبر کے روز ویب سائٹ شروع کیے جانے کے بعد جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ لوگ جھوٹ پر مبنی افواہوں اور غلط امیدوں کے باعث خود کو مشکلات میں نہ ڈالیں۔ ایسی ہی غلط افواہوں کے خاتمے کے لیے ہم اس ویب سائٹ پر غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی معلومات شائع کر رہے ہیں۔‘‘
جرمن وزارت خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسانوں کے اسمگلر جھوٹی معلومات پھیلانے کے لیے زیادہ تر انٹرنیٹ کا ہی سہارا لیتے ہیں اسی لیے ’جرمنی کے بارے میں افواہیں‘ نامی اس منصوبے کے ذریعے انٹرنیٹ ہی کے ذریعے حقیقی صورتحال عام لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔
ملکی وزارت خارجہ نے سن 2015 سے پاکستان اور افغانستان کے علاوہ شمالی اور مغربی افریقہ میں بھی لوگوں کو غلط معلومات کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر یورپ اور جرمنی کی جانب سفر کرنے سے روکنے کے لیے تشہیری مہم شروع کر رکھی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ٹی وی، ریڈیو، عوامی مقامات پر اشتہارات اور انٹرنیٹ کے ذریعے درست معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جرمن حکومت کے مطابق نئی ویب سائٹ انہی کاوشوں کی ایک کڑی ہے۔

پوج ڈیمونٹ اسپین کے مطلوب افراد میں شامل، وارنٹ گرفتاری جاری

اسپین کے پراسیکیوٹر خوسے مانوئیل ماسا کارلیس پوج ڈیمونٹ پر بغاوت، سرکشی اور حکومتی فنڈ کے غلط استعمال کے الزامات عائد کرنا چاہتے ہیں۔ وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے کاتالان لیڈر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے علاقے سے فرار نہیں ہوئے ہیں لیکن بیلجیم میں قیام رکھتے ہوئے دفاع کے لیے بہتر انداز میں تیاری کی جا سکتی ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ صحیح انصاف کے طلب گار ہیں نا کہ ہسپانوی انصاف کے۔ قبل ازیں پوج ڈیمونٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تو وہ خود کو میڈرڈ حکومت کے حوالے کر دیں گے۔
کاتالونیا کی برطرف حکومت کے ارکان، ہسپانوی عدالت میں
اسپین: کاتالونیا میں ’خاموش مزاحمت شروع کی جائے‘
بارسلونا میں اسپین کے اتحاد کی خاطر مظاہرے
یہ بدترین اقدامات ہیں، کاتالان لیڈر پوج ڈیمونٹ
چون سالہ کاتالان لیڈر نے اس وارنٹ گرفتاری کو فی الحال نظرانداز کر دیا ہے۔ یہ وارنٹ گرفتاری میڈرڈ کی جج کارمین لامیلا کی عدالت نے جاری کیے ہیں۔ ان کے جاری کرنے کی وجہ پوج ڈیمونٹ کی عدالتی طلبی پر حاضر نہ ہونا بتائی گئی ہے۔ الزام ثابت ہونے کی صورت میں انہیں تیس برس تک کی سزا سنائی جا سکے گی۔
جمعرات دو اکتوبر کو اسی عدالت نے کاتالونیا کی برخاست شدہ حکومت کے آٹھ اراکین کی عدالتی کارروائی سے قبل گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔

اسپین: کاتالونیا میں ’خاموش مزاحمت شروع کی جائے‘

میڈرڈ حکومت نے اپنے اعلان کے مطابق کاتالونیا کی علاقائی حکومت سے اختیارات واپس لے لیے ہیں۔ ان حالات میں ہسپانوی وزیر اعظم ماریانو راخوئے نے حکومتی انتظامات سنبھال لیے ہیں۔ اس طرح اب یہ علاقہ ’جبری انتظامیہ‘ کے تحت کام کر رہا ہے۔ اس دوران راخوئے نے بارسلونا کی پارلیمان کو تحلیل کرتے ہوئے اکیس دسمبر کو نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ کاتالونیا کے بے دخل کیے جانے والے سربراہ حکومت پوج ڈیمونٹ پر سرکشی اور بغاوت کے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر اسپین سے خود مختاری کے حصول کی کوششیں کرنے والے سیاستدانوں نے کاتالونیا کے سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ملازمین سے ان اقدامات کے خلاف خاموش مزاحمت شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کاتالونیا کی برطرف حکومت کے ارکان، ہسپانوی عدالت میں

پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے پاکستانی تارکین وطن میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ دیگر یورپی ممالک کی نسبت اٹلی میں پاکستانی شہریوں کو پناہ ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس تاثر کی حقیقت جانے کے لیے ڈی ڈبلیو نے اپنی اس خصوصی رپورٹ میں یورپی یونین کے دفتر شماریات ’یورو سٹیٹ‘ کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے۔
کن ممالک میں کتنے پاکستانیوں نے پناہ کی درخواستیں دیں؟
جنوری سن 2012 سے لے کر دسمبر سن 2016 تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ان پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد پاکستانی تارکین وطن نے یورپی یونین کے مختلف رکن ممالک میں حکام کو سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔
اٹلی: پناہ کے قوانین میں تبدیلی کا مجوزہ قانون
جرمنی سے مہاجرین کو ملک بدر کر کے یونان بھیجا جائے گا، یونان
مذکورہ عرصے کے دوران پاکستانی تارکین وطن نے سب سے زیادہ اٹلی ہی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ اٹلی میں ان پانچ برسوں کے دوران مجموعی طور پر 37 ہزار پاکستانی پناہ کی تلاش میں پہنچنے۔ سن 2012 میں اٹلی میں پناہ کے خواہش مند پاکستانیوں کی تعداد محض چھبیس سو تھی جو سن 2015 میں تین گنا سے زائد کے اضافے کے ساتھ دس ہزار تک جا پہنچی تھی جب کہ سن 2016 میں اطالوی حکام کو پناہ کی درخواست دینے والے پاکستانیوں کی تعداد قریب چودہ ہزار ہو گئی تھی۔

پوج ڈیمونٹ نے بیلجیم پولیس کو گرفتاری دے دی

یہ بات اہم ہے کہ ایک متنازعہ ریفرنڈم کے بعد کاتالونیا کی علاقائی پارلیمان کی جانب سے آزادی کے مبہم اعلان پر میڈرڈ حکومت نے اس کی نیم خودمختار حیثیت ختم کرتے ہوئے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔
میڈرڈ حکومت کی جانب سے کاتالونیا کی نیم خودمختار حیثیت کا خاتمہ کرتے ہوئے اس پر براہ راست حکومت کرنے کے فیصلے کے بعد پیر 30 نومبر کو پوج ڈیمونٹ اور ان کے ساتھی بیلجیم چلے گئے تھے۔
بیلجیم کے دفتر استغاثہ نے پوج ڈیمونٹ ان کے ساتھیوں کو حراست میں لیے جانے کے حوالے سے ایک بیان میں کہا، ’’انہیں صبح نو بجکر 17 منٹ پر ان کی آزادی سے محروم کر دیا گیا۔‘‘ استغاثہ کے ترجمان کے مطابق، ’’ہم ان پانچ لوگوں کے وکلاء کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انہوں نے پولیس اسٹیشن آنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔‘‘ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’’انہوں نے اپنے وعدے پر عمل کیا۔‘‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آج اتوار کی شام صرف ان پانچ افراد، ان کے وکلاء اور مترجم عدالتی پیشی میں حاضر ہوں گے۔
پوج ڈیمونٹ اور ان کے چار ساتھیوں کو اسپین کی عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا تھا کہ وہ بغاوت، سرکشی اور عوامی پیسے کے ناجائز استعمال کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوں۔ اس میں ناکامی کے بعد اسپین نے جمعہ تین نومبر کو ان علیحدگی پسند رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔

یہ ‘لڑکی کے بھائی‘ کون ہیں؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر صحافی احمد نورانی پر ہونے والے حملے کے بعد مختلف نوعیت کے تبصرے سامنے آتے رہے ہیں جن میں لاپتہ ہونے والے بلاگرز اور خاموش کروائے جانے والے صحافیوں کا ذکر کیا جاتا رہا۔
اسی دوران ایک مقامی اخبار کی جانب سے ایک خبر شائع کی گئی جس میں اس حملے کے محرکات کو مختلف بیان کیا گیا اور اسی ایک نامعلوم لڑکی کے نامعلوم بھائیوں کی جانب سے حملہ قرار دیا گیا۔
اس کے بعد جو ہوا وہ ٹوئٹر ٹرینڈ لڑکی کے بھائی میں محفوظ ہے جس کی چند ٹویٹس پیش ہیں۔
رابعہ آفتاب لکھتی ہیں کہ „ٹویٹ اور اظہار رائے کرنے سے پہلے اپنے اطراف میں اچھی طرح دیکھ کر تسلی کر لیں کہ کہیں لڑکی کے بھائی نہ کھڑے ہوں ‘
سید محمد شہزاد نے لکھا „سارا ملک ایک طرف… ‘لڑکی کے بھائی ایک طرف ‘
ٹوئٹر پر باروق کے نام سے ٹویٹ کرنے والے ایک اکاؤنٹ کی ٹویٹ ‘ظاہر ہے لڑکی کے بھائی بہت ‘حساس’ ہوتے ہیں ہمارے معاشرے میں … ضرور انہی بھائیوں نے مارا ہے’
عمر شریف کے نام سے ٹویٹ کرنے والے ایک اکاؤنٹ کی ٹویٹ کچھ یوں تھی ‘آئندہ سے نامعلوم افراد کی بجائے لڑکی کے بھائی جیسے مناسب اور سماجی طور پرقابل قبول الفاظ استعمال کیے جائیں۔ مجنانب: ادارہ ہٰذا’
عائشہ بشیر نے لکھا ‘احمد نورانی کا حال۔۔۔ کھودا پہاڑ نکلے لڑکی کے بھائی یا سالے’
سلمان کی ٹویٹ تھی کہ ‘الیکشن ساری خدائی ایک طرف لڑکی کے بھائی ایک طرف۔۔۔۔’
ڈاکٹر خاور رندھاوا نے سوال کیا کہ ‘اب کیا لڑکی کے بھائی خود ہی گرفتار ہونا چاہیں گے؟ بات ہے سمجھ کی۔۔۔’
گل مرجان نے ٹویٹ کی کہ ‘آج کل پاکستان میں صحافیوں کو لڑکی کے بھائیوں سے بھی خطرات درپیش ہیں۔’
اس ٹرینڈ کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تمام تر کوششوں اور تنخواہ دار سوشل میڈیائی شور شرابے کے باوجود عام صارف نہ صرف حقائق کو سمجھتا ہے بلکہ کھرے کو کھوٹے اور پیڈ یعنی پیسے سے چلنے والے کو آرگینک یعنی حقیقی رائے کے اظہار میں فرق کر سکتا ہے۔

لبنانی وزیرِ اعظم کا ’جان کے خطرے‘ کی وجہ سے استعفیٰ

لبنان کے وزیرِاعظم سعد حریری نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر شدید تنقید کی ہے۔
سعد حریری نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ ایک نیوز کانفرنس میں اچانک مستعفی ہونے کا اعلان کر کے سب کو حیرت زدہ کر دیا۔
سعد حریری کے والد رفیق حریری سال دو ہزار پانچ میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد ملک میں شروع ہونے والے سیڈر انقلاب یا انقلاب دیار میں پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

Photo by Nadine A. Gardner