سیاہت

یہ ‘لڑکی کے بھائی‘ کون ہیں؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر صحافی احمد نورانی پر ہونے والے حملے کے بعد مختلف نوعیت کے تبصرے سامنے آتے رہے ہیں جن میں لاپتہ ہونے والے بلاگرز اور خاموش کروائے جانے والے صحافیوں کا ذکر کیا جاتا رہا۔
اسی دوران ایک مقامی اخبار کی جانب سے ایک خبر شائع کی گئی جس میں اس حملے کے محرکات کو مختلف بیان کیا گیا اور اسی ایک نامعلوم لڑکی کے نامعلوم بھائیوں کی جانب سے حملہ قرار دیا گیا۔
اس کے بعد جو ہوا وہ ٹوئٹر ٹرینڈ لڑکی کے بھائی میں محفوظ ہے جس کی چند ٹویٹس پیش ہیں۔
رابعہ آفتاب لکھتی ہیں کہ „ٹویٹ اور اظہار رائے کرنے سے پہلے اپنے اطراف میں اچھی طرح دیکھ کر تسلی کر لیں کہ کہیں لڑکی کے بھائی نہ کھڑے ہوں ‘
سید محمد شہزاد نے لکھا „سارا ملک ایک طرف… ‘لڑکی کے بھائی ایک طرف ‘
ٹوئٹر پر باروق کے نام سے ٹویٹ کرنے والے ایک اکاؤنٹ کی ٹویٹ ‘ظاہر ہے لڑکی کے بھائی بہت ‘حساس’ ہوتے ہیں ہمارے معاشرے میں … ضرور انہی بھائیوں نے مارا ہے’
عمر شریف کے نام سے ٹویٹ کرنے والے ایک اکاؤنٹ کی ٹویٹ کچھ یوں تھی ‘آئندہ سے نامعلوم افراد کی بجائے لڑکی کے بھائی جیسے مناسب اور سماجی طور پرقابل قبول الفاظ استعمال کیے جائیں۔ مجنانب: ادارہ ہٰذا’
عائشہ بشیر نے لکھا ‘احمد نورانی کا حال۔۔۔ کھودا پہاڑ نکلے لڑکی کے بھائی یا سالے’
سلمان کی ٹویٹ تھی کہ ‘الیکشن ساری خدائی ایک طرف لڑکی کے بھائی ایک طرف۔۔۔۔’
ڈاکٹر خاور رندھاوا نے سوال کیا کہ ‘اب کیا لڑکی کے بھائی خود ہی گرفتار ہونا چاہیں گے؟ بات ہے سمجھ کی۔۔۔’
گل مرجان نے ٹویٹ کی کہ ‘آج کل پاکستان میں صحافیوں کو لڑکی کے بھائیوں سے بھی خطرات درپیش ہیں۔’
اس ٹرینڈ کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تمام تر کوششوں اور تنخواہ دار سوشل میڈیائی شور شرابے کے باوجود عام صارف نہ صرف حقائق کو سمجھتا ہے بلکہ کھرے کو کھوٹے اور پیڈ یعنی پیسے سے چلنے والے کو آرگینک یعنی حقیقی رائے کے اظہار میں فرق کر سکتا ہے۔